Real Story,Why Imran Khan (Chairman PTI) did'nt answer notice?
عمران نے نوٹس کا جواب کیوں نہیں دیا،اصل کہانی کیا ہے؟
اسلام آباد(عثمان منظور) تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بظاہر فرشتوں کی ایما پر جنگ گروپ کیخلاف بے بنیاد الزام تراشی کو اپنی عادت بنالیا ہے۔ 11 مئی کے انتخابات میں شکست کے بعد سے وہ دھاندلی کے خلاف شور مچاتے رہے ہیں اور پہلے پہل عدلیہ اور اب جنگ پر الزامات عائد کر رہے ہیں کہ انہوں نے اس کامیابی سے محروم کردیا ہے جس کے خواب فرشتوں نے انہیں دکھائے تھے۔گزشتہ سال جب جیو ٹی وی کی طرف سے پاکستان بمقابلہ سری لنکا سیریز کی نشریات کے حقوق کی کامیاب بولی کے بعد مقامی میڈیا اور غیر مرئی قوتوں کی رات کی نیندیں حرام ہوگئیں تو عمران خان نے الزام عائد کیا کہ نجم سیٹھی ( اس وقت چیئرمین پی سی بی تھے) نے جیو پر الزام تراشی کی ہے۔ تاہم عمران خان نے اس طرح کی دوسری سیریز (پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ) کی نشریات کے حقوق ایک بھارتی سپورٹس چینل جس میں زی کے حقوق 95 فیصد ہیں اور اس کا صدر دفتر بھی ممبئی میں ہے کو دینے پر عمران خان خاموش رہے۔ ذیل میں عمران خان کیلئے کچھ حقائق بیان کئے جا رہے ہیں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ایک پاکستانی ٹی وی چینل نے ایک بین الاقوامی سیریز کے حقوق حاصل کئے اور اس کا مقصد پاکستان کمپنی کی بھارت اور پروڈکشن وسائل کو بہتر کرنا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ دونوں سیریز کے حقوق کی بولی کے عمل میں نجم سیٹھی کا کوئی کردار نہیں تھا۔یہ سارا عمل پی سی بی کی بولی کمیٹی کے ذریعے مکمل ہوا تھا۔ شفاف اور مسابقتی بولی کے ذریعے جیو کو نشریاتی حقوق دینے والی بولی کمیٹی کے چیئرمین احسان مانی تھے۔ احسان مانی آئی سی سی کے سابق صدر ہیں اور 2000ء سے آئی سی سی کے کمرشل حقوق کے معاملات دیکھ رہے ہیں۔ ان میں آئی سی سی کے کروڑوں ڈالر کے میڈیا حقوق شامل ہیں۔انہوں نے 1993ء سے ویسٹ انڈیز جنوبی افریقہ اور پی سی بی کے میڈیا حقوق کا انتظام و انصرام کیا ہے۔ وہ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کے 15 رکنی ٹرسٹی بورڈ کے بھی رکن رہے ہیں۔ وہ کینسر ہسپتال کے آڈٹ کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے ہیں۔ بولی کمیٹی کے دیگر ارکان میں پی سی بی کے سی او او سبحان تھے (جو ایم بی اے ہیں اور کرکٹ کا 19 سالہ تجربہ ہے) بھی شامل تھے۔ وہ آئی سی سی کے ساتھ کام کرچکے ہیں اور انہوں نے 2003ء اور 2007ء کے ورلڈ کپ کے ایمرجنسی پلان بھی بنا لیا تھا۔ کمیٹی کا تیسرا رکن بدر خان تھے (چارٹرڈ اکائونٹنٹ ہیں اور کرکٹ فنانس کا تجربہ رکھتے ہیں) چوتھے رکن پی سی بی کے گورننگ بورڈ کے رکن رفیق بگھیو (انہوں نے سارے عمل کی نگرانی کی) اور ایک آزاد رکن جسٹس (ر) شبر رضا رضوی (انہوں نے سری لنکن ٹیم پر حملے کی رپورٹ بھی تیار کی تھی) شامل تھے۔ اس سارے عمل کی نگرانی ایک غیرجانبدار فرم ارنسٹ اینڈ ینگ (آڈٹ کے حوالے سے نمایاں کام ہے اور اس کی خدمات بولی کے عمل میں شفافیت سے متعلق رپورٹ کیسے حاصل کی گئیں) نے کی تھی۔سارے عمل کی کارروائی کے بعد بولی کمیٹی نے اپنی سفارشات پی سی بی کے گورننگ بورڈ کو پیش کی تھی۔ اس شفاف عمل نے جنوبی افریقہ اور سری لنکن سیریز کیلئے میڈیا حقوق کی اتنی بڑی پیشکش پر فروخت کرنے میں مدد کی جتنی رقم دبئی اور ابوظبی میں ہونے والی جنوبی افریقہ اور سری لنکن سیریز کیلئے ایک بھارتی چینل کے ساتھ 5 سالہ معاہدے سے حاصل ہوئی تھی۔ دراصل پی سی بی کو جنوبی افریقہ اور سری لنکا کی سیریز سے سابقہ سیریز کے مقابلے میں ایک ملین ڈالر کے قریب زیادہ رقم ملی تھی۔جیو ٹی وی نے 2008ء میں بھی 5 سال کیلئے میڈیا حقوق خریدنے کیلئے بولی دی تھی لیکن اس کو یہ حقوق نہیں ملے تھے حالانکہ اس وقت بھی بولی کمیٹی کے سربراہ احسان مانی ہی تھے۔ ٹین سپورٹس نے یہ حقوق 5 سال کیلئے حاصل کئے جو 2013ء میں ختم ہوگئے۔ پاکستان سری لنکا سیریز کے معاملے میں پی سی بی کی گورننگ باڈی (جس نے میڈیا حقوق کی منظوری دی) اور نجم سیٹھی اس سارے عمل سے باہر رہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہیں کہ جنگ،جیو گروپ کی طرف سے عمران خان کو ایک قانونی نوٹس بھجوایا گیا تھا جس کا جواب دینے کے بجائے عمران خان نے اب آزادی صحافت کے نام پر جنگ گروپ کے کیخلاف پروپیگنڈا شروع کردیا ہے انہیں چاہیے تھا کہ وہ نوٹس کا جواب بھیجتے ۔ وہ اگر قانونی نوٹس سے عدم اتفاق کرتے تو جنگ گروپ انکے خلاف عدالت میں جاتا۔ جنگ گروپ کا اس نوٹس کا ذکر اس سے پہلے کبھی نہیں کیا جو باتیں آج اخباروں میں چھپ رہی ہیںان سے کہا گیا تھا کہ جنگ گروپ کی ساری چیزیں چیک کرلیں اور اپنے آڈیٹرز بھی لے آئیں مگر وہ نہیں آئے اب چونکہ الزامات لگائے جارہے ہیں اس لئے جنگ ، جیو گروپ کو اب عدالت میں جانا پڑیگا حالانکہ عمران خان کی پارٹی کے لوگوں کے شور مچانے پر ہی جنگ، جیو گروپ نے انہیں تمام متعلقہ چیزیں بھجوائی تھیں اور سب کچھ سمجھایا بھی تھادراصل بات یہ ہے کہ کچھ عرصے سے یہ لوگ فرشتوں اور مخصوص چینلز کے مخصوص لوگوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھارہے ہیں جس میں جنگ گروپ کے خلاف بدنامی مہم کا ایجنڈا بھی شامل ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عمران خان اس مخصوص چینل کے ایک پروگرام پانچ بار شرکت کرچکے ہیں ان کے علاوہ ایک لال ٹوپی والا بھی پروپیگنڈے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے۔عمران خان کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ پی سی بی نے عرب امارات میں مختلف مقامات پر 2 ہوم سیریز (ایک افریقہ اور دوسری سری لنکا کے خلاف) کیلئے 8 اگست 2013ء کو ٹینڈرز جاری کئے۔ ان میں دلچسپی رکھنے والی پارٹیوں سے سے تکنیکی اور مالی پیشکش طلب کی گئی تھیں۔ دو مرحلوں پر مشتمل اس عمل میں مالی اور تکنیکی پیشکشوں کو کھولنا تھا جس میں موخر الذکر کا مقصد مالی پوزیشن ، سپورٹس پروڈکشن کا تجریہ ، کمپنی کی ملکیت اور حصص کی تفصیلات کی جانچ اور کامیاب بولی کی صورت میں بولی دہندہ کے عالمی تقسیم کے منصوبے کا جائزہ لینا تھا۔ 30 اگست کو ایک محتاط جائزے کے بعد بولی کمیٹی نے ایک بھارتی چینل اور مبصر کی تکنیکی پیشکشوں کی منظوری دی اور پھر دوسرے یعنی مالی پیشکشوں کے کھولنے کا آغاز کیا۔ طے کردہ عمل کے مطابق بولی کمیٹی نے مالی پیشکشوں کے کھولے جانے سے قبل ہرسیریز کیلئے ریزرو پرائس کا اعلان کیا لیکن ٹین سپورٹس اور جیو دونوں اس پرائس پر پورے نہ اترے پھر دونوں کو ایک اور موقع دیا گیا کہ وہ اگلے روز یعنی 31 اگست 2013ء کو نظرثانی شدہ پیشکش جمع کرائیں۔ دوسرے رائونڈ میں سری لنکن سیریزکیلئے جیو کی پیشکش ریزرو پرائس سے بڑھ گئی جبکہ بھارتی چینل نے اپنی پہلی پیشکش برقرار کھی جو کہ ریزرو پرائس سے کم تھی اور اس کو کسی طور قبول نہیں کیا جاسکتا تھا۔ یوں جیو کو سری لنکن سیریز کے حقوق کیلئے کامیاب بولی دہندہ قرار دیدیا گیا۔ جنوبی افریقہ کی سیریز کے حقوق کیلئے دونوں یعنی جیو اور بھارتی چینل پی سی بی کے ریزرو پرائس کے برابر بولی نہ دے سکے اور بولی کمیٹی نے نسبتاً زیادہ ہونے کی بنا پر حقوق بھارتی چینل کو دینے کا فیصلہ کیا اگرچہ یہ زیادہ بولی بھی پی سی بی کی ریزرو پرائس سے 80 لاکھ ڈالر کے قریب کم تھے۔تاہم پی سی بی نے بولی کی دستاویزات کی شق کے مطابق مزید بات چیت کئے بغیر ہی بھارتی ٹی وی چینل کو حقوق دیدیئے تاہم معلوم نہیں کیوں عمران خان سمیت کسی نے بھی کوئی اعتراض نہ کیا۔اہم بات یہ ہے کہ عبدالرحمن بخاطر ٹین سپورٹس کے 50 فیصد حقوق بھارتی ٹی وی چینل زی ٹی وی کو 2006ء میں 57 ملین امریکی ڈالر میں فروخت کردیئے تھے اور زی ٹی وی نے مزید 32.2 فیصد حصص 31 ملین امریکی ڈالر کے عوض فروری 2010ء میں حاصل کرلئے اور بعدازاں 13.4 ملین ڈالر کے عوض مزید 12.8 فیصد شیئرز حاصل کرلئے ۔ یوں کمپنی میں 95 فیصد حصص حاصل کرلئے ۔ ٹین سپورٹس کے 95 فیصد کنٹرول حاصل کرنے کے بعد کارپوریٹ دفاتر اب ممبئی میں ہیں اور ساری لنکنگ اپ آپریشنز بھارت کے علاقے نوئیڈا سے ہو رہے ہیں۔ٹین سپورٹس کے پاس 2008ء تا 2013ء کے عرصے میں پاکستان کی ہوم سیریز کے حقوق تھے اور اس طرح میں کمپنی کے حصص کی ملکیت میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔ کرکٹ بورڈز کی طرف سے کئے گئے زیادہ تر نشریاتی معاہدوں میں ایسی تبدیلیوں کو پہلے سے تحریری اجازت کے بغیر نہیں کرنے دیا جاتا۔ اس معاملے میں پی سی بی ہی وضاحت کرسکتا ہے کہ آیا اس نے ٹین سپورٹس کو اجازت دی تھی کہ 2009ء میں 2010ء کے عرصے میں جب بھارتی ٹی وی چینل زی کمپنی کے 95فیصد حصص حاصل کر رہی تھی وہ بورڈ کے میزبان براڈ کاسٹر کے طور پر کام کرتا ہے۔ عمران خان اس وقت خاموش رہے جب بھارتی چینل کے پاس 5 سال کیلئے میڈیا حقوق تھے اور جیو کو ایک سیریز کے حقوق مل گئے تو ان کی آنکھ کھل گئی۔